Wednesday, 14 December 2022
*۔۔رومن اردو ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کرنے کی ایک بہت بڑی سازش:* رومن اُردو سے مراد اُردو الفاظ کو انگریزی حروف تہجی کی مدد سے لکھنا ہے. مثلاً کتاب کو Kitaab اور دوست کو Dost لکھنا۔ اس طرزِ تحریر کو دشمنِ اردو کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ اگر قارئین اس بات کو نہیں سمجھے کہ رومن اردو سے اردو رسم الخط کو کیا خطرہ لاحق ہے تو اس کو سمجھنے کے لیے *ترکوں کی مثال دی جاسکتی* ۔ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ١٩٢٨ء میں سیکولر ذہنیت کے حامل کمال اتاترک نے کئی طریقوں سے اسلام سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔ جیسے کہ اذان پر پابندی، حج و عمرہ کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا، آیا صوفیہ جیسی عظیم الشان مسجد کو میوزیم میں تبدیل کیاگیا اور یہاں تک کہ ہجری کیلنڈر کی جگہ عیسوی کلینڈر کو نافذ کیاگیا۔ *کمال اتاترک نے اسلام دشمنی کا ایک اور ثبوت دیا* اور ترکی زبان جو عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اسے بدل کر رومن حروف میں لکھنے کا حکم دے دیا۔ جواز یہ پیش کیاگیا کہ اس سے شرح خواندگی اوپر آئے گی۔ لیکن اس اقدام کا اصل مقصد آنے والی تُرک نسل کو اسلامی کتب جو عربی رسم الخط میں تھیں ان سے دور کرنا تھا۔ اس بات کا واضح ثبوت ترکی کے پہلے وزیراعظم عصمت انونو کے ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ *”حرف انقلاب کا مقصد نئی نسل کا ماضی سے رابطہ منقطع کرنا اور ترک معاشرے پر مذہب اسلام کی چھاپ اور اثر و رسوخ کو کمزور بنانا ہے۔”* (یادداشتِ عصمت انونو، جلد دوئم، ص، 223) یہ اسلام دشمن منصوبہ کامیاب رہا اور آنے والی نسل دیگر کتب تو دور کی بات قرآن مجید پڑھنے میں بھی دشواری کا سامنا کررہی تھی۔ کیونکہ قرآن مجید بھی عربی رسم الخط میں ہے۔ نتیجے کے طور پر سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں لکھی جانے والی بیش بہا کتب کا خزانہ تو موجود تھا لیکن ترک ان کتابوں کو پڑھنے سے قاصر تھے۔ کسی نے ان حالات کا کیا خوب تجزیہ کیا ہے کہ *ترک قوم رات کو سوئی تو پڑھی لکھی لیکن صبح اٹھی تو انپڑھ ہوچکی تھی کیونکہ ان کا واسطہ ایک ایسے رسم الخط سے پڑا تھا جس سے وہ نابلد تھے۔* ترک اس حادثے کو اب تک نہیں بھولے اور اسی حوالے سے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا تھا، *’’دنیا میں مجھے ایسی کوئی قوم بتا دیں جو اپنی تاریخ اور تہذیب کے اصلی نسخوں ہی کو پڑھنے سے محروم ہو؟“* افسوس کہ ہماری قوم بھی ہر گزرتے دن اپنے رسم الخط کو فراموش کرتی جارہی ہے اور ہم بھی یہی غلطی دُہرا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے رفاہِ عامہ کے لئے جاری ہونے والے پیغامات ہوں یا پھر موبائل کمپنیوں کی جانب سے موصول ہونے والے اشتہارات اب ہر جگہ رومن اردو نے پنجے گاڑھ لئے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ رومن اردو کا آغاز کب ہوا لیکن اسے ”عروج“ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے کہ فیس بک، ٹوئٹر اور وٹس ایپ نے بخشا۔ابتدائی ایام میں جب موبائل فونز میں اردو کی بورڈ (Keyboard) میسر نہ تھا تو رومن اردو لکھنا سب کی مجبوری تھی لیکن یہ مجبوری ہماری عادت اور سُستی بن گئی اور اب اردو کی بورڈ موجود ہونے کے باوجود ہم رومن اردو کو چھوڑنے پر راضی نہیں۔ (اگر آپ کے موبائل فون میں اردو کی بورڈ میسر نہیں تو پلے اسٹور سے باآسانی ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں۔) کچھ افراد کا کہنا ہے کہ اردو کی بورڈ استعمال کرتے ہوئے اردو لکھنا مشکل اور وقت طلب کام ہے تو ان کے لیے عرض ہے کہ *جاپانی اور چینی انٹرنیٹ بلکہ کسی بھی جگہ رومن رسم الخط کا استعمال نہیں کرتے* بلکہ اپنے رسوم الخط کو ترجیح دیتے ہیں۔ *کیا اردو اب جاپانی اور چینی زبان سے بھی مشکل ہو گئی ہے جو ہم اس سے دور ہو رہے ہیں؟* اسی طرح کچھ احباب اردو رسم الخط سے اس لئے بھاگتے ہیں کہ املاء کی غلطی کے باعث کوئی ان کا مذاق نہ اڑائے جیسے کہ اگر لفظ ”کام“ کو رومن اردو میں لکھنا ہو تو یوں لکھا جا سکتا ہے Kaam یا kam بلکہ Km لکھنے سے بھی کام بن جائے گا۔ کیونکہ اس کے لکھنے کا کوئی اصول نہیں۔ لیکن اگر اردو رسم الخط کا استعمال کرتے ہوئے کام کو ”قام“ لکھ دیا تو غلطی پکڑی جاسکتی ہے۔ اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے اگر کوئی ہمارے املاء کی تصحیح کر دے تو ہمیں اس کے لئے ان کا شکر گزار ہونا چاہیئے ۔ رومن اردو کی جانب ہمارے جھکاؤ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت قوم انگریزی زبان سے بیحد مرعوب ہیں۔ ہمیں اس بات کو سمجھنے میں دیر نہیں لگانی چاہیئے کہ کسی بھی زبان کو بننے اور بگڑنے میں وقت لگتا ہے یا پھر یوں کہا جائے کہ آنے والی نسلیں زبان کی صورت بناتے یا بگاڑتے ہیں۔ *ہمارے یہاں ایک نسل تو رومن اردو لکھتے بڑی ہوگئی* اور اگر اب بھی رومن اردو کا راستہ نہ روکا گیا تو حالات وہی ہوجائیں گے کہ *اردو تحریر دیکھ کر لوگوں کو سمجھ ہی نہ آئے گی کہ لکھا کیا ہے* اور اس بات پر سارے متفق ہیں کہ *جس زبان کا رسم الخط نہ رہے تو اس کے دامن میں موجود ادب کا بیش بہا سرمایہ بھی ضائع ہوجاتا ہے۔* تمام دوستوں سے گزارش ھےکہ *اردو رسم الخط کا استعمال کریں* شروع میں لکھنے میں کچھ دن پریشانی ھوگی پھر تیزی اور روانی آ جاۓ گی ۔۔۔
Monday, 12 December 2022
Saturday, 26 November 2022
Friday, 27 April 2018
Babies Eat Braincells
People often wonder how I can reconcile being mormon and loving LGBTQ(etc) people. Their lifestyle certainly goes against my religious beliefs, and I'm not perfect enough to say "Jesus loves everyone so I do too" (because there's def some people I super hate- even if I shouldn't). So why do I love them so much? I have such a deep respect for the LGBT crowd, and even my non-mormon family just don't get how. I think what I love so much is their courage. I know a lot of people got all bent when Caitlyn Jenner unveiled herself in some grandiose media explosion, claiming that calling her journey "courageous" somehow diminished the courage others had in other areas of life. Do I find ridiculous media displays courageous? No, I find them (and all the Kardashians, really) quite obnoxious, including in your face displays of sexuality of any sort (homo or hetero!). The courageous bit isn't calling some paps and having them photograph the heck out of you after you've spent tens of thousands of dollars on hair, makeup and clothing, which no regular human being would ever be able to afford. The courageous bit is knowing that you will invoke the hatred of thousands of people who don't even know you, simply by embracing your true self, and still doing it anyways. That concept, loving yourself enough to be who you truly are in public AND private, is not unique to the LGBT crowd. But they are the ones that have it on VERY public display when it occurs. I, as a heterosexual white christian, don't have anything provocative to display about myself. I'm "normal" to society. My lifestyle is completely acceptable by the majority of my country. When you have a person who chooses one day to be true to themselves, and therefore put the most private, personal pieces of their life out on display, knowing full well they are going to be mercilessly attacked, THAT is courage, and that is what I respect. They are told they are lesser, they are treated like scum, they are treated like they've chosen an evil path intentionally and therefore must be shamed and punished- simply for being honest. Life is hard enough when you have people nit picking your clothing, your body size, your hair, and all of the changeable aspects of your life, but when you have people literally attacking you for who you are as a whole, that is insanely difficult and patently unfair. So to answer the question, I don't love the LGBT crowd despite their gayness (or whatever-ness) in some pseudo-christian condescending way, I love them because they have the courage to be themselves. If what they're doing is built upon the foundation of love, what is there to hate? I firmly believe in the proclamation to the family, the family's uncompromisingly necessary role in the plan of salvation and all that the prophets have had to say about marriage being between a man and a woman (my thoughts on the government not utilizing the religiously affiliated word "marriage" and having ALL unions be civil thus further separating church and state, and also not denying any person any civil rights based on one religion's beliefs are posts for another day). I have a firm testimony on the value of the traditional family, not only to God but to society as a whole. But I also know that Jesus is love, and anything that is grounded in mutual love - true, honest, heartfelt love- and respect can not be bad. To put it simply, I cannot for the life of me look at a couple so madly in love such as NPH and his husband, and their obviously happy and well-loved children, and think "these people are evil destroyers of society and must be stopped at any cost". I just can't.
That's my 2 cents.
That's my 2 cents.
The Rolling River Revue: New Website!!
The Rolling River Revue: New Website!!: Link to my new website: danielvonderahe.com
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
The Rolling River Revue: New Website!! : Link to my new website: danielvonderahe.com

