Thursday, 8 February 2018
Friday, 10 January 2014
بھارتی خواتین کے لیے خصوصی پستول ’نربھِک
بھارتی خواتین کے لیے خصوصی پستول ’نربھِک
بھارت میں خواتین کے جنسی استحصال
اور زیادتی کے واقعات میں اضافے کے بعد شمالی بھارت کی اسلحہ فیکٹری نے
خصوصی طور پر خواتین کے لیے ڈیزائن کی گئی پستول متعارف کروائی ہے۔
کان پور میں واقع انڈین آرڈیننس فیکٹری نے اعشاریہ 32 بور کے اس پستول کو ’نربھِک‘ یعنی بہادر کا نام دیا ہے۔اسلحہ فیکٹری نے اس پستول کو دہلی میں دسمبر 2012 میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی آنجہانی لڑکی کے نام معنون کیا ہے۔
چھ گولیوں والی اس پستول کا وزن پانچ سو گرام ہے اور اس کی قیمت ایک لاکھ 22 ہزار بھارتی روپے کے لگ بھگ ہے۔
اہل کار کے مطابق اب تک کمپنی کو 20 پستولوں کا آرڈر مل چکا ہے جبکہ 80 افراد نے باقاعدہ طور پر اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
خیال رہے کہ بھارت میں ہتھیار رکھنے کے لیے حکومت سے باقاعدہ لائسنس لینے کی ضرورت ہوتی ہے
Frinch Prisident love secondle
پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیو سکوفیلڈ نے بتایا ہے کہ فرانسیسی صدر نے اداکارہ سے معاشقے کی تردید نہیں کی ہے بلکہ پرائیویسی کی خلاف ورزی پر قانونی چارہ جوئی کی بات کی ہے۔فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ وہ ہفت روزہ کلوزر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا سوچ رہے ہیں جس نے خبر شائع کی ہے کہ ان کا اداکارہ ژولی گائییے کے ساتھ معاشقہ چل رہا ہے۔
فرانس میں پرائیویسی کے قوانین انتہائی سخت ہیں اور کسی فرد کی مرضی کے بغیر اس کی ذاتی زندگی میں مداخلت مجرمانہ فعل ہے۔
ہفت روزہ کلوزر نے اپنے تازہ شمارے میں فرانسیسی صدر کے اداکارہ ژولی گائییے کے مبینہ معاشقے کے بارے میں سات صفحات پر مشتمل ایک فیچر شائع کیا ہے جس میں ایسی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں جن سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ صدر رات کے وقت صدارتی محل کو چھوڑ کر ژولی گائییے کے فلیٹ پر جاتے ہیں اور رات وہیں گزارتے ہیں۔
41 سالہ ژولی گائییے فرانس کی جانی پہچانی ٹی اور فلموں کی اداکارہ ہیں اور 50 سے زیادہ فلموں میں کام کر چکی ہیں۔صحافی ویلری ٹرائیویلر صدر فرانسو اولاند کی پارٹنر ہیں
کچھ مہینوں سے صدر فرانسوا اولاند کے اداکارہ ژولی گائییے سے معاشقے کی خبریں انٹرنیٹ پر چل رہی تھیں۔ ژولی کے وکیلوں نے پچھلے ہفتے ہی کچھ بلاگروں کے خلاف شکایت دائر کرائی تھی جنھوں نے اپنے بلاگوں میں صدر کے معاشقے کے بارے لکھا تھا۔
ژولی کے وکیل نے کہا تھا کہ ان افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
صدر فرانسوا اولاند سرکاری طور پر صحافی ویلیری ٹرائرویلر کے پارٹنر ہیں۔ اس سے پہلے وہ سوشلسٹ سیاست دان سیگولین رائل کے پارٹنر تھے جن سے ان کے چار بچے ہیں۔ سیگولین رائل نے فرانس کا صدارتی انتخاب بھی لڑا تھا لیکن وہ نیکولا سرکوزی سے ہار گئی تھیں۔
فرانسوا اولاند نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے: ’پرائیوسی ہر شہری کا حق ہے۔ ‘
فرانسیسی صدر نے اپنے دفتر کی بجائے ذاتی طور پر بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ وہ ہفت روزہ کلوزر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا سوچ رہے ہیں۔
ہفت روزہ کلوزر نے ایسی تصاویر شائع کی ہے جن میں صدر فرانسوا اولاند ہیلمٹ پہنے ایک موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اداکارہ ژولی کے فلیٹ پر پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس موٹر سائیکل کو ایک ڈرائیور چلا رہا تھا۔صدر فرانسو اولاند کے سابق صدارتی امیدوار سیگولین رائل سے چار بچے ہیں
میگزین نے ایسی تصاویر بھی چھاپی ہیں جن میں صدارتی محل کے محافظ علی الصبح صدر فرانسوا اولاند کے لیے کروساں لے کر فلیٹ پر پہنچتے ہیں جہاں وہ مبینہ طور پر اداکارہ دوست ژولی کے ساتھ رات گزار رہے ہیں۔
اسی ہفت روزہ میگزین کلوزر نے برطانوی شاہی جوڑے شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ شہزادی کیٹ کی تصاویر چھاپی تھیں جو خفیہ طور پر اس وقت بنائی گئی تھیں جب برطانوی شاہی جوڑا چھٹی منانے کے لیے فرانس میں رہائش پذیر تھا۔
Saturday, 7 December 2013
روزانہ جنسی مباشرت مفید
جوان نطفہ یا تخم بیضے کو بارآور بنانے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں
ایک تحقیق کے مطابق روزانہ جنسی
مباشرت مردوں میں مادۂ منویہ یا سپرم کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار
ہوتی ہےجس کی وجہ سے بیضے کی بارآوری نسبتاً زیادہ آسانی سے ہوجاتی ہے۔
اس بات کا پتہ اس وقت چلا جب ایک مطالعے کے دوران
ایسے مردوں کو روزانہ مادۂ منویہ خارج کرنے کو کہا گیا جنہیں باپ بننے میں
مشکلات کا سامنا تھا۔ ایک ہفتے کے اس عمل کے بعد دیکھنے میں آیا کہ ان
افراد کے نطفۂ کے جو نمونے حاصل کیے گئے ان میں ڈی این اے کا نقصان کم تھا۔
فرٹیلیٹی (بچے پیدا کرنے کی صلاحیت) سے متعلق ایک
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی محقق کا کہنا تھا کہ بچوں کے خواہشمند
جوڑوں کے لیے ان کا عمومی مشورہ یہ ہی ہے کہ وہ ہر دوسرے یا تیسرے روز جنسی
صحبت کریں۔
ابتدائی تحقیق کے مطابق اس کے امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔
آسٹریلوی شہر سِڈنی کے ڈاکٹر ڈیوِڈ گرِیننگ کا
کہنا تھا کہ اس تحقیق میں حصہ لینے والے دس میں سے آٹھ مردوں کے نطفے میں
ڈی این کا کا نقصان بارہ فی صد کم نظر آیا۔
اگرچہ اس عمل کے ایک ہفتے کے بعد نطفے یا تخم کی
مجموعی تعداد اٹھارہ کروڑ سے کم ہو کر صرف سات کروڑ رہ گئی تھی مگر یہ
تعداد بھی بارآوری کے لیے کافی ہے۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ نئے بننے والے نطفے یا سپرم زیادہ متحرک اور فعال تھے۔
اس سے یہ نظریہ سامنے آیا کہ سپرم جتنے زیادہ وقت
کے لیے خصیوں میں رہیں گے ان میں ڈی این اے کے نقصان کا احتمال بھی اتنا ہی
زیادہ ہوگا اور خصیے کی گرمی ان میں سستی پیدا کر دے گی۔
تاہم ڈاکٹر گرِیننگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر
روزانہ جنسی مباشرت کو زیادہ عرصے مثلاً دو ہفتوں تک جاری رکھا جائے تو
ہوسکتا ہے کہ مادۂ منویہ میں تخم کی تعداد بارآوری کے لیے درکار حد سے کم
ہوجائے۔
البتہ اس عمل کا اس وقت جاری رکھنا زیادہ مفید ہے
جب عورت کا حیض ختم کے بعد (بالعموم بارہ سے سولہ روز) انڈہ یا بیضہ بن کر
رحم کی جانب محوِ سفر ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر گریننگ کا کہنا ہے کہ دریا کو بہتے رہنا چاہئے۔
فلسطین میں سولہ سالہ لڑکی کو ایک دن کی وزارت مل گئی
مقبوضہ بیت المقدس : فلسطینی علاقے میں سولہ سالہ لڑکی کو ایک دن کے لیے مقامی انتظامیہ کے محکمہ کا وزیر بنایا گیا ۔
فلسطینی
اتھارٹی کے مقامی انتظامیہ کے محکمہ کے وزیر سعید الکونی نے نوجوانوں کی
حوصلہ افزائی کے لئے بشائر عثمان کو ان کی سالگرہ کے موقع پر یہ عہدہ سونپا
۔ ایک دن کے لیے وزیر بننے والی بشائر عثمان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری
جنرل بان کی مون کے سامنے مقامی مسائل پیش کیے۔ سولہ سالہ عثمان گزشتہ سال
دو ماہ کے لیے اپنے آبائی علاقے ایلار کی میونسپل کے میئر کے طور پر کام
کر چکی ہیں ۔ بشائر نوجوانوں کے لیے ایک فورم بھی چلاتی ہی
New Styleof Protest
مقبوضہ
بیت المقدس : فلسطینی خاتون صحافی نے ملک کی خراب معاشی صورت حال پر
احتجاج کا انوکھا طریقہ اپنایا اور فلسطینی صدر محمود عباس کو نکاح کا
پیغام بھیج ڈالا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فلسطینی خاتون
صحافی ایمان ھریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر صدر محمود عباس کے
نام ایک پیغام بھیجا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خراب معاشی حالات کے باعث
خوش حال زندگی نہیں گزار پارہیں، وہ احساس محرومی کے خاتمے کے لئے صدر
محمود عباس سے نکاح کی خواہش مند ہیں
Thursday, 26 September 2013
History of GooGle
گوگل کی تاریخاور ہمارے نوجوان
گوگل
سرچ انجن نے انیس سو چھیانوے میں کام کرنا شروع کیا۔ اس تحریر کو پڑھنے
والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات سے واقف ہوگی کہ اس سے پہلے معمولی سی
بات کو جاننے کے لئے لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ اور اگر وہاں
متعلقہ مواد موجود نہ ہو تو کسی بھی سنی سنائ بات سے آگے بات بڑھ نہ پاتی
تھی۔ اس نئ ٹیکنیک نے دنیا میں معلومات کی ترسیل کا انداز ہی بدل دیا۔ اور
آج دنیا کے کسی حصے میں کیا ہو رہا ہے اسکا علم صرف چند سیکنڈز میں ہمارے
پاس ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح سے یہ علم عام انسان کی فلاح کے لئےکام آرہا ہے
وہاں شر پسند بھی اسکے مناسب استعمال کے طریقے ڈھونڈھتے رہتے ہیں یوں طبل
جنگ اب میدان جنگ میں نہیں بلکہ ایک ایسے مجازی میدان جنگ میں بھی ہو سکتا
ہے جہاں ہمارا حریف دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اسکی
سواری کے ماہر نہیں تو یہ ممکن ہے کہ ہم آگے بڑھنے سے پیشتر خود ہی ناکام
ہو جائیں۔ اور نتیجے میں میدان بلا مقابلہ ہمارے حریف کے ہاتھ رہے۔
لیکن
نہیں ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہم اس ٹیکنیک کو استعمال کرنے سے انکار کر دیں
اور نتیجے میں رضاکارانہ طور پہ یہ میدان اپنے حریف کے حوالے کر کے خود
بغلیں بجائیں۔
ٹیکنالوجی
کی اس ترقی سے ملکوں کے سیاسی معاملات میں دوسری طاقتوں کے نفوذ و اثر کا
امکان زیادہ بڑھ گیا۔ اور ایسا بھی ہوا کہ مختلف ممالک میں انکی دسترس پہ
پابندی لگائ گئ۔ جیسے فیس بک پہ پابندی۔ اب تک پانچ ممالک اس پہ پابندی لگا
چکے ہیں۔ ان میں چین، ایران، شام، ویتنام اور پاکستان شامل ہیں۔ پاکستان
کے علاوہ باقی تمام ممالک نے مختلف اوقات میں اپنے اندرونی معاملات میں
بیرونی عناصر کے اثر کو کم کرنے کے لئے یہ انتہائ قدم اٹھایا۔
چین
وہ واحد ملک ہے جہاں سن دو ہزارنو میں لگائ جانیوالی فیس بک پہ پابندی آج
بھی موجود ہے۔ چین کی آبادی اس وقت سوا ارب کے قریب ہے۔ اس پابندی سے چین
میں ایک عام انٹر نیٹ صارف کے متائثر نہ ہونے کی وجوہات میں جو چیزیں اہم
ہیں وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی خود انحصاری ہے۔ وہ انٹر
نیٹ کے سلسلے میں اپنا انفرا اسٹرکچر رکھتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ چین میں
چینی زبان کی ترویج ہے یوں بیرونی ذرائع جو کہ زیادہ تر انگریزی میں ہوتے
ہیں وہاں زیادہ پذیرائ حاصل نہیں کر پائے۔ اس سب کے باوجود آزاد ذرائع کہتے
ہیں کہ پروکسی سرور کے ذریعے فیس بک تک رسائ حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی
تعداد چین میں اب بھی فیس بک سے مستفید ہو رہی ہے۔ اور یوں فیس بک کو اس
سلسلے میں کوئ بہت زیادہ نقصان نہیں ہے۔
دنیا
بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت انٹر نیٹ استعمال کر ہی ہے۔ اگر
ہم اپنے ملک میں ہی دیکھیں تو اس وقت اسے استعمال کرنے والوں میں نوجوان
ہی زیادہ شامل ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے مختلف
حصوں کو نوجوانوں نے ہی ترتیب دیا۔ یوں ثابت ہو گیا کہ ہر عہد اپنے
نوجوانوں کا ہوتا ہے۔
مارک
ایلیئٹ زکربرگ، نیویارک میں انیس سو چھیاسی میں پیدا ہوا۔ نسلاً یہودی اور
مذہباً دہریہ ہے۔ فیس بک کے بانیوں میں سے ایک ہے۔ شاید اسی وجہ سے مسلمان
فیس بک کو یہودیوں کی سازش قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے مایہ
ناز کرکٹر عمران خان نے ایک یہودی النسل خاتون کو مسلمان کر کے شادی کی۔
اس طرح یہودیوں سے بننے والے تعلقات کے نتیجے میں انکے کینسر کے لئے قائم
ہسپتال کو کافی ڈونیشنز ان ذرائع سے ملیں۔ لیکن اسے یہودیوں کی سازش نہیں
سمجھا جاتا۔ اس وقت مارک کی ذاتی جائداد کی مالیت چار ارب امریکی ڈالر ہے۔
اسکے دیگر ساتھیوں میں شامل ہیں، ایڈوآرڈو سیورن ، ڈسٹن ماسکووٹس، کرس
ہیوز، یہ سب لوگ اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے نوجوان ہیں۔
انیس
سو اٹھتر میں پیدا ہونے والا اسٹیون شی چن، آٹھ سال کی عمر میں تائیوان سے
ہجرت کر کے امریکہ پہنچا۔ پےپل میں دوران ملازمت اسکی ملاقات چیڈ ہرلے
اور جاوید کریم سے ہوئ اور یوں سن ۲۰۰۵ میں یو ٹیوب وجود میں آئ۔
چیڈ
ہرلے، امریکہ میں انیس سو چھتّر میں پیدا ہوا۔ جاوید کریم، انیس انّاسی
میں جرمنی میں پیدا ہوا۔ اسکے والد کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا جو جرمنی میں
ایک تحقیقداں کے طور پہ کام کر رہا تھے۔ جبکہ اسکی ماں ایک جرمن سائینسداں
تھی۔
جب
یوٹیوب کو گوگل کے حوالے کیا گیا تو اسٹیون کو تین سو پچاس ملین امریکی
ڈالر مالیت کے شیئرز ملے۔ چیڈ ہرلے کو تین سو چھبیس ملین امریکی ڈالر اور
جاوید کریم کے حصے میں چونسٹھ ملین امریکی ڈالر کی مالیت کے شیئرز آئے۔
گوگل
ویب بیسڈ سرچ انجن کی بنیاد دو پی ایچ ڈی کرنے والے اسٹوڈنٹس نے انیس سو
چھیانوے میں رکھی۔ یہ انکا پی ایچ ڈی کا پروجیکٹ تھا۔ جسکا مقصد ایک
یونیورسل ڈیجیٹل لائبریری کا قیام تھا۔ یہ دو طالب علم تھے لارنس اور سرجے۔
لارنس لیری پیج انیس سو تہتر میں امریکہ میں پیدا ہوا۔ اسکا ساتھی سرجے
برن بھی انیس سو تہتر میں، روس میں پیدا ہوا اور چھ سال کی عمر میں امریکہ
ہجرت کر گیا۔ فوربس کے مطابق وہ دونوں اس وقت دنیا کے چوبیسویں امیرترین
اشخاص ہیں۔ اور انکی ذاتی دولت کا شمار ساڑھے سترہ ارب امریکی ڈالر لگایا
جاتا ہے۔ یہ دولت انکے پاس اپنے پروجیکٹ میں کامیاب ہونے کی صورت میں آئ
جسکا نتیجہ آج ہم گوگل کی صورت دیکھتے ہیں۔
ان
نوجوانوں نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو بہترین طور پہ استعمال کیا، دولت
کمائ بلکہ آج کی دنیا میں انسانی ترقی اور تاریخ کا رخ اور رفتار موڑ دی۔
یہ وہ نوجوان ہیں جنہیں یہ قوت حاصل ہے کہ وہ آجکی دنیا پہ اثر انداز ہو
سکیں۔
اب
ہم اپنے یہاں ستر اور اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے والے لوگوں کو دیکھتے
ہیں ۔ کیا واقعی انہیں ان نوجوانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔
جنکا تذکرہ میں نے اس طویل تحریر میں کیا ہے۔ یہ جو موجودہ رویہ ہمیں اپنے
نوجوانوں کا نظر آتا ہے۔ یہ کسی احساس محرومی کی وجہ سے ہے، احساس ذمہ داری
سے بھاگنے کی وجہ سے ہے یا مقابلے کی فضا میں فرار حاصل کرنے کی وجہ سے
ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
The Rolling River Revue: New Website!! : Link to my new website: danielvonderahe.com
